رابطۃ المدارس الاسلامیہ العربیہ
لوڈ ہو رہا ہے...
منسلک مدارس
مدرسے کی تصدیق کریں
امتحانات
لائبریری
☎ 080-25479786
انگریزیاردوالعربية
لاگ اِن
رابطۃ المدارس الاسلامیہ العربیہمرکزی دفتر: دارالعلوم دیوبند
تازہ ترین معلومات
تازہ ترین معلومات
لائبریری
دستور العمل رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند Rules & Legal Documents

1. تعارف

﷽

دستور العمل
رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند

منظور کردہ مجلس عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ
منعقدہ: ۱۶ صفر ۱۴۲۳ھ مطابق ۳۰ اپریل ۲۰۰۲ء

2. بنیادی دفعات اور مقاصد

دفعہ (1)

اس تنظیم کا نام رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ ہوگا۔

دفعہ (۲)

مجموعہ ضوابط کا نام ”آئین رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ“ ہوگا۔

دفعہ (۳)

دستور کی تاریخ نفاذ: ۱۶/۲/۱۴۲۳ھ مطابق ۳۰/۴/۲۰۰۲ء۔

دفعہ (۴)

اس تنظیم کا مرکزی دفتر دارالعلوم دیوبند میں ہوگا اور رابطہ کے صدر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب ہوں گے۔

دفعہ 5 — اغراض و مقاصد

شق (الف)

مدارسِ اسلامیہ عربیہ کے نظام تعلیم و تربیت کو بہتر بنانا۔

شق (ب)

مدارسِ اسلامیہ عربیہ کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا اور روابط کو مستحکم کرنا۔

شق (ج)

مدارسِ اسلامیہ عربیہ کی بقاء و ترقی کے لیے صحیح اور مؤثر ذرائع اختیار کرنا، اور مدارس اسلامیہ عربیہ کے نصابِ تعلیم، نظامِ تعلیم اور طریقۂ امتحان میں یکسانیت اور ہم آہنگی پیدا کرنا۔

شق (د)

ان علاقوں میں مدارس اور مکاتب کے قیام کی جدوجہد کرنا جہاں مرکز ضرورت محسوس کرے۔

شق (ھ)

بوقتِ ضرورت نصابِ تعلیم میں کسی جزوی ترمیم و تسہیل پر غور کرنا۔

شق (و)

نصابِ تعلیم میں شامل نایاب و کم یاب کتابوں کا نظم کرنا۔

شق (ز)

اسلامی تعلیم اور اس کے مراکز کے خلاف کی جانے والی کوششوں اور سازشوں پر نظر رکھنا۔

شق (ح)

مسلم معاشرہ کی اصلاح اور شعائر اسلام کی حفاظت کرنا۔

دفعہ 6 — بنیادی اصول

رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ کے رکن وہی مدارس ہوں گے:

شق (الف)

جو عقائد اہل سنت و الجماعت کے پابند اور مسلک علماء دیوبند سے متفق ہوں۔

شق (ب)

جو رابطہ کے بنیادی اغراض و مقاصد سے متفق ہوں اور دستور العمل کی پابندی قبول کریں۔

شق (ج)

جہاں دارالعلوم دیوبند کے نہج پر عربی درجات قائم ہوں، یا حفظ اور اس کے ساتھ تجوید کی تعلیم باقاعدہ کتاب کے ذریعہ ہوتی ہو۔

شق (و)

جہاں امداد یافتہ مقیم طلبہ کی تعداد کم از کم پچیس ہو۔

3. تنظیمی ڈھانچہ اور نظم

دفعہ 7 — رابطہ کی ہیئت ترکیبی

رابطہ مدارس اسلامیہ کی دو مجلسیں ہوں گی: (1) مجلس عمومی (۲) مجلس عاملہ۔

مجلس عمومی

شق (الف)

یہ مجلس، دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوری کے جملہ ارکان، پندرہ اساتذۂ دارالعلوم — جن کا انتخاب حضرت مہتمم صاحب کریں گے — اور ان تمام مدارسِ اسلامیہ عربیہ کے ایک نمائندہ پر مشتمل ہوگی جو رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے باقاعدہ رکن ہوں۔

شق (ب)

مجلس عمومی ہی رابطہ کی اصل ہیئت حاکمہ ہوگی۔

شق (ج)

اس مجلس کے صدر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب ہوں گے۔

شق (د)

مجلس عمومی کے انعقاد کے لیے تاریخ مجوزہ سے ایک ماہ قبل ارکان مجلس کو اطلاع دینی ضروری ہوگی، البتہ کسی ہنگامی ضرورت کے تحت صدر مجلس پندرہ یوم کے اندر مجلس عمومی کا جلسہ طلب کر سکتے ہیں۔

شق (ھ)

مجلس عمومی کے فیصلے اتفاق رائے اور بصورت اختلاف، کثرت رائے سے ہوں گے۔

شق (و)

دستور کی کسی دفعہ میں ترمیم یا تنسیخ کے لیے حاضرین کی دو تہائی اکثریت کا فیصلہ ضروری ہوگا، بشرطے کہ مجلسِ شوری دارالعلوم دیوبند کے جو ارکان مجلس میں شریک ہوں ان کی اکثریت اس سے متفق ہو، اور ایجنڈے میں ترمیم کا مسئلہ صراحت کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہو۔

شق (ز)

مجلس عمومی کے کورم کے لیے ضروری ہوگا کہ جملہ ارکانِ رابطہ کی چوتھائی تعداد شریک جلسہ ہو۔

شق (ح)

اس مجلس کا جلسہ تین سال کے وقفہ سے ہوا کرے گا، البتہ خصوصی حالات میں صدر مجلس اس سے قبل بھی جلسہ طلب کر سکتے ہیں۔

دفعہ 8 — مجلس عمومی کے اختیارات و فرائض

شق (الف)

رابطہ کے دستور العمل کو منظوری دینا۔

شق (ب)

رابطہ کے اغراض و مقاصد کی حفاظت کرنا۔

شق (ج)

مجلس عاملہ کے فیصلوں پر بوقت ضرورت نظر ثانی کرنا۔

دفعہ 9 — مجلس عاملہ کی تشکیل

شق (الف)

مجلس عاملہ ۱۵۱؍ افراد پر مشتمل ہوگی، جن میں دس ارکان مجلسِ شوری دارالعلوم دیوبند ہوں گے، جن کا انتخاب مجلسِ شوری کرے گی۔ دس اساتذہ دارالعلوم دیوبند ہوں گے، جن کا انتخاب حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند کریں گے، اور اکتیس ارکان، رکن مدارس کے نمائندوں میں سے ہوں گے، جن کا انتخاب مجلس عمومی کرے گی۔

شق (ب)

صدرِ محترم اپنی صوابدید پر کچھ مدعو خصوصی کو بھی طے فرما سکتے ہیں، جن کی تعداد دس تک ہو سکتی ہے۔

شق (ج)

مجلس عاملہ کا انتخاب تین سال کے لیے ہوگا۔

شق (و)

مجلس عاملہ کا جلسہ سال میں کم از کم ایک بار ہوگا۔ ہنگامی حالت میں صدر صاحب اس سے زائد جلسے بھی طلب کر سکتے ہیں۔

شق (ھ)

جلسہ کی مجوزہ تاریخ سے کم از کم پندرہ روز پہلے ارکان کو اطلاع ضرور دی جائے، خصوصی حالات میں اس سے کم مدت کی اطلاع پر بھی جلسہ طلب کیا جا سکتا ہے۔

شق (و)

مجلس عاملہ کے صدر، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب ہوں گے۔

شق (ز)

مجلس عاملہ کے جلسوں کا کورم مجلس کے ایک تہائی ارکان کی حاضری سے مکمل ہوگا۔

دفعہ 10 — فرائض مجلس عاملہ

شق (الف)

رابطہ کے اغراض و مقاصد کو بہ روئے کار لانے کے لیے تجاویز منظور کرنا اور انہیں نافذ کرنا۔

شق (ب)

مجلس عمومی کے فیصلوں اور تجاویز پر عمل درآمد کرنا۔

شق (ج)

رابطہ کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنا۔

شق (و)

مربوط مدارس کے لیے ضابطۂ اخلاق مرتب کرنا، اور اس کے نفاذ کی صورت تجویز کرنا۔

شق (ھ)

رابطہ مدارس کے اغراض و مقاصد کو فروغ دینے کے لیے صوبائی اور ضلعی شاخیں قائم کرنا۔

شق (و)

مربوط مدارس کے تعلیمی و تربیتی جائزے کے لیے رہنما خطوط متعین کرنا۔

شق (ز)

مربوط مدارس کے لیے نظامِ تعلیم و تربیت مرتب کرنا اور ان کے نفاذ کی جدوجہد کرنا۔

شق (ح)

رابطہ مدارس کی صوبائی شاخوں کے لیے اصول و ضوابط بنانا یا ان کے طے کردہ اصول و ضوابط کو منظور کرنا۔

شق (ط)

جن امور کے سلسلے میں دستور ساکت ہے ان کے بارے میں مرکزی مجلس عاملہ کا فیصلہ دستوری ہوگا۔

دفعہ 11 — صدر کی ذمہ داریاں

شق (الف)

رابطہ کے تمام جلسوں کی صدارت کرنا۔

شق (ب)

مرکزی دفتر کی کارکردگی کی نگرانی کرنا، اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کرنا۔

شق (ج)

مجلس عمومی اور مجلس عاملہ کے جلسوں کے لیے تاریخیں مقرر کرنا۔

دفعہ 12 — ناظم عمومی

رابطہ مدارس اسلامیہ کا ایک ناظم عمومی ہوگا جس کا انتخاب صدر صاحب بمشورہ مجلس عاملہ کریں گے۔

دفعہ 13 — ناظم عمومی کی ذمہ داریاں

شق (الف)

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے مقاصد کو بہ روئے کار لانے کی جدوجہد کرنا۔

شق (ب)

رکن مدارس سے آخری جماعت کے طلبہ کی فہرست اور سالانہ امتحان کے نتائج حاصل کرنا۔

شق (ج)

مرکزی دفتر کی دستاویزوں اور واجب الحفظ تحریروں اور مسلوں کو مرتب و محفوظ کرنا۔

شق (د)

حسب ہدایت صدر رابطہ، مجلس عمومی و مجلس عاملہ کے جلسوں کے لیے ایجنڈا جاری کرنا۔

شق (ھ)

مجلس عمومی، مجلس عاملہ اور دیگر ذیلی مجالس کی تجاویز اور فیصلوں کو نافذ کرنا۔

شق (و)

رابطہ کی سالانہ رپورٹ کارکردگی مرتب کر کے مجلس عاملہ میں پیش کرنا اور رابطہ کی سہ سالہ رپورٹ مجلس عمومی کے اجلاس میں پیش کرنا۔

شق (ز)

مربوط مدارس کے نظامِ تعلیم و تربیت پر نظر رکھنا اور بوقت ضرورت بذات خود یا بذریعہ وفود ان کا جائزہ لینا اور مفید مشورے دینا۔

شق (ح)

دفتری امور کی نگرانی کرنا اور حسب ضرورت ناظم دفتر کو ہدایات جاری کرنا۔

شق (ط)

رابطہ سے متعلق صدر صاحب کے تفویض کردہ جملہ امور کو انجام دینا۔

4. مربوط مدارس اور سندِ ارتباط

دفعہ 14 — مربوط مدارس کی ذمہ داریاں

شق (الف)

فارم رکنیت کو پُر کرنا، جسے مرکزی دفتر سے حاصل کیا جا سکے گا۔

شق (ب)

اپنے فضلاء یا آخری تعلیمی سال کے طلبہ کی مکمل فہرست مع نتائج امتحان سالانہ مرکزی دفتر کو بھیجنا۔

شق (ج)

مرکزی اور صوبائی رابطہ کے اجتماعات میں ایک نمائندہ اپنے مصارف پر بھیجنا۔

شق (د)

رابطہ کی طرف سے منظور شدہ نظام تعلیم و تربیت اور ضابطہ اخلاق کو حتی الوسع اپنے مدارس میں بہ روئے کار لانا۔

دفعہ 15 — سند ارتباط

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ سے مربوط مدارس کے معیار کے مطابق مرکزی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند سے حسب شرائط سند ارتباط جاری کی جائے گی، جس کی تفصیل حسب ذیل ہوگی:

شق (الف)

سند ارتباط برائے مدارس ابتدائیہ: ان مربوط مدارس کے لیے جہاں تا عربی دوم یا صرف حفظ و تجوید کی تعلیم دی جاتی ہو۔

شق (ب)

سند ارتباط برائے مدارس وسطی: ان مربوط مدارس کے لیے جہاں عربی سوم تا عربی پنجم کی تعلیم دی جاتی ہو۔

شق (ج)

سند ارتباط برائے مدارس علیا: ان مربوط مدارس کے لیے جہاں عربی ششم تا دورہ حدیث شریف کی تعلیم دی جاتی ہو۔

شق (3)

سند ارتباط کے لیے متعلقہ مدرسے کے لیٹر پیڈ پر درخواست کے ساتھ فارم رکنیت، متعلقہ درجات کے سالانہ امتحان کا نتیجہ اور رابطہ مدارس کے صوبائی صدر صاحب کی تصدیق پیش کرنی ضروری ہوگی جو متعلقہ مربوط مدرسے کے بارے میں مکمل اطمینان کے بعد ہو۔ یہ سند صرف پانچ سال کے لیے ہوگی۔

5. صوبائی شاخیں

دفعہ 16 — صوبائی شاخوں کی تشکیل

صوبائی و ضلعی شاخوں کی تشکیل حسب ذیل طریقے پر ہوگی:

شق (الف)

ہر صوبہ میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کی ایک شاخ ہوگی۔

شق (ب)

صوبائی رابطہ میں صوبہ کے وہ مدارس شامل ہوں گے جن کے ذمہ داران نے باقاعدہ فارم رکنیت پُر کر کے مرکزی رابطہ کی رکنیت قبول کی ہو۔

شق (ج)

صوبائی رابطہ کا ایک صدر ہوگا، جس کی نامزدگی مرکزی رابطہ کے صدر صاحب کے ذریعہ عمل میں آئے گی۔ بوقت ضرورت مرکزی صدر صاحب صوبے میں کارگذار (معاون) صدر بھی مقرر فرما سکتے ہیں، ہر صوبہ کے تین تک نائبین ہوں گے اور ایک ناظم اعلیٰ ہوگا، جن کی تعیین صوبائی صدر صاحب مجلس عاملہ کے ارکان کے مشورے سے کریں گے اور دو ناظم ہوں گے، جن کو ناظم اعلیٰ بمشورہ صدر نامزد کرے گا۔

شق (و)

صوبائی رابطہ کی ایک مجلس عاملہ ہوگی، جو صوبہ کے مربوط مدارس کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔

شق (ھ)

مذکورہ بالا عہدے داران سمیت ارکان عاملہ کی تعداد اکیس (۲۱) ہوگی۔ مجلس عاملہ کے ارکان کا انتخاب صدر صاحب تمام مربوط مدارس کے نمائندگان کے مشورے سے کریں گے اور اس انتخاب کے وقت مرکزی رابطہ کا کوئی نمائندہ بہ حیثیت مشاہد موجود رہے گا۔

شق (و)

اگر صوبہ کے مربوط مدارس کی تعداد بہت زیادہ ہو اور اکیس (۲۱) ارکان کے ذریعہ تمام یا اہم اضلاع کی نمائندگی نہ ہو سکے اور اس کی ضرورت محسوس کی جائے تو حسب ضرورت تعداد ارکان اور تعداد عہدے داران میں اضافہ کی گنجائش ہوگی۔

شق (ز)

صوبائی رابطہ کے عہدے داران اور مجلس عاملہ کے ارکان مرکزی رابطہ کے دستور العمل میں مذکورہ اغراض و مقاصد اور بنیادی اصول کے مطابق کام کریں گے اور مرکزی دفتر کی جانب سے مرسلہ تجاویز اور ہدایات کی روشنی میں رابطہ کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کی سعی کریں گے۔

شق (ح)

صوبہ کے جملہ مربوط مدارس پر مشتمل صوبائی رابطہ کی مجلس عمومی ہوگی۔

شق (ط)

مجلس عاملہ کا سال میں کم از کم دوبار اور مجلس عمومی کا اجلاس سال میں کم از کم ایک بار ہوگا۔

شق (ی)

صوبائی و ضلعی صدر اور مجلس عاملہ کے ارکان و عہدے داران کا انتخاب تین سال کے لیے ہوگا۔

دفعہ 17 — صوبائی شاخوں کی ذمہ داریاں

شق (الف)

رابطہ کے دستور العمل میں مذکور اغراض و مقاصد کی حفاظت کرنا اور ان کو بہ روئے کار لانے کی سعی کرنا، رابطے کی ضلعی شاخیں قائم کرنا اور ان کے لیے ضمنی ضابطے مرتب کرنا۔

شق (ب)

ضلعی شاخ قائم کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس ضلع میں مربوط مدارس کی تعداد کم از کم پانچ ہو، ورنہ دو یا چند اضلاع کو ملا کر شاخ قائم کی جائے اور ضلع میں ارکان عاملہ کی تعداد کم از کم گیارہ ہوگی۔

شق (ج)

مربوط مدارس کے تعلیمی و تربیتی جائزے کے لیے وفود روانہ کرنا اور جائزے کی رپورٹ سے مرکزی دفتر کو آگاہ کرنا۔

شق (د)

مربوط مدارس کے نظام تعلیم و تربیت پر نظر رکھنا۔

شق (ھ)

مرکزی دفتر کی جانب سے ارسال کردہ مجلس عمومی یا مجلس عاملہ یا صدر رابطہ کی ہدایات، تجاویز اور مشوروں کے نفاذ کی سعی کرنا۔

شق (و)

مربوط مدارس میں ضابطہ اخلاق کی سعی کرنا۔

شق (ز)

مذکورہ بالا امور کے علاوہ ضمنی طور پر ایسے ضوابط اور طریقہ کار متعین کرنا، جن کی صوبے میں ضرورت محسوس کی جائے اور جو مرکزی دستور العمل کی کسی دفعہ اور بنیادی اغراض و مقاصد سے متصادم نہ ہوں۔

شق (ح)

صوبائی رابطے کے جملہ اخراجات صوبے کے ذمہ ہوں گے اور ان کی فراہمی کا طریقہ کار مجلس عمومی اور مجلس عاملہ کے مشورے سے طے کیا جائے گا۔ تمام مربوط مدارس سالانہ فیس رکنیت مبلغ ایک ہزار روپئے ادا کریں گے۔ فیس براہ راست صوبائی دفتر میں جمع ہوگی، صوبائی دفتر اس کی پختہ رسید دے گا، اضلاع کے ضروری اخراجات بھی صوبے سے ہی ادا کیے جائیں گے، صوبائی دفاتر آمد و صرف کا مکمل حساب رکھیں گے، سالانہ حساب کا گوشوارہ صوبائی مجلس عمومی کے اجلاس میں پیش کریں گے اور اس کی نقل مرکزی دفتر رابطہ کو بھی روانہ کریں گے۔

متن کا سائز
سطروں کا فاصلہ
مطالعہ کی چوڑائی
مطالعہ کا پس منظر
جہاں آپ نے چھوڑا تھا وہیں سے جاری رکھیں؟
مدرسے کی تصدیق کریں